اپنا انکار کر چکا ہوں میں
Umar Farhat (b. 1986)اپنا انکار کر چکا ہوں میں
کار دشوار کر چکا ہوں میں
یعنی وحشت میں آپ ہی اپنے
سائے پر وار کر چکا ہوں میں
جو کہانی میں مرکزی ٹھہرے
وہ بھی کردار کر چکا ہوں میں
بے ثباتی پہ آنکھ سے گریہ
حسب درکار کر چکا ہوں میں
اب نصیحت کا فائدہ ہی نہیں
عشق آزار کر چکا ہوں میں
اوڑھ کر ہجر تیرا اے فرحتؔ
خود کو بیمار کر چکا ہوں میں