قصۂ غم سنا ہوا سا ہے

Umar Farhat (b. 1986)

قصۂ غم سنا ہوا سا ہے

یہ فسانہ رٹا ہوا سا ہے

شہر میں ہو رہی ہے شام کہ اب

کوئی طوفاں رکا ہوا سا ہے

جس بھی منظر میں وہ نظر آئیں

دل وہیں پر لگا ہوا سا ہے

کس نے یہ راہزن نظر ڈالی

سارا منظر لٹا ہوا سا ہے

میرے زخموں کو چھونے والے ترا

کوئی ناخن بڑھا ہوا سا ہے

جل رہا ہے بدن کا ہر حصہ

دل مگر کچھ بجھا ہوا سا ہے