اک تماشا فقط دکھا رہا ہوں

Umar Farhat (b. 1986)

اک تماشا فقط دکھا رہا ہوں

آ رہا ہوں کہیں نہ جا رہا ہوں

جیت سکتا تھا میں انا کی جنگ

ہار کا زہر خود ہی کھا رہا ہوں

مجھ کو دیکھو نہ یوں حقارت سے

میں بھی کچھ دیر نا خدا رہا ہوں

اپنے ان آنسوؤں کی شدت سے

ساری دنیا کو میں ہنسا رہا ہوں

درمیاں جو پڑا ہے پردہ اب

سامنے سے اسے ہٹا رہا ہوں

جس سے بنتی نہیں عمر فرحتؔ

اسے اپنا کہاں بنا رہا ہوں