یہ بھلا کیسی انکساری ہے

Umar Farhat (b. 1986)

یہ بھلا کیسی انکساری ہے

زندگی خاک میں گزاری ہے

اس نے جھیلا ہے یہ پہاڑ سا دن

ہم نے آنکھوں میں شب گزاری ہے

رات کیسے مری بسر ہوگی

جب کہ یہ شام اتنی بھاری ہے

دل کے جنگل میں ہیں اکیلے ہم

اس پہ یہ رات بھی شکاری ہے

بعد تیرے سمجھ نہیں آتا

کس طرح کی یہ اشک باری ہے

جس کو دیکھوں اسے پکارتا ہوں

مجھ پہ اک اسم کی خماری ہے

تم جنہیں اشک کہہ رہے ہو عمرؔ

وہ محبت کی ریز گاری ہے