خاموشی کا صحرا ہوں
Umar Farhat (b. 1986)خاموشی کا صحرا ہوں
اس دنیا میں تنہا ہوں
مجھ کو بھی معلوم نہیں
کیسی باتیں کرتا ہوں
یار اذیت لگتی ہے
اشک بہاتا رستا ہوں
یادوں کی اک بوند ہوں میں
اور آنکھوں میں رہتا ہوں
در خود ہی کھل جاتا ہے
میں کب دستک دیتا ہوں
تجھ کو بھی کچھ جلدی ہے
میں بھی جانے والا ہوں
یاد کرو آباد کرو
تیرا گزرا لمحہ ہوں
تہمت کا در باز ہوا
یعنی میں بھی سچا ہوں
پھر سے میرا ہاتھ پکڑ
یعنی گرنے والا ہوں
آنکھیں سرخ تو ہوں گی عمرؔ
خوابوں کا رکھوالا ہوں