کاغذی تھیں جلا کے رکھ دی ہیں

Umar Farhat (b. 1986)

کاغذی تھیں جلا کے رکھ دی ہیں

ساری چڑیاں اڑا کے رکھ دی ہیں

تجھ کو اب دل سے دیکھنا ہے مجھے

اپنی آنکھیں چھپا کے رکھ دی ہیں

آج دیکھا ہے بے حجاب اس کو

ساری باتیں بھلا کے رکھ دی ہیں

دیکھنا ان میں خواب آئیں گے

میں نے آنکھیں سلا کے رکھ دی ہیں

صبر میرا شعار ٹھہرا ہے

خواہشیں سب دبا کے رکھ دی ہیں