زخموں سے اچھا ہو جاؤں

Umar Farhat (b. 1986)

زخموں سے اچھا ہو جاؤں

بات کروں ہلکا ہو جاؤں

کاش مری قیمت بڑھ جائے

کاش میں کچھ مہنگا ہو جاؤں

تیرے قدموں پہ سر رکھ دوں

میں دنیا جیسا ہو جاؤں

آ جاؤں اس کی آنکھوں میں

اور میں کیا سے کیا ہو جاؤں

سب کا اثر فرحتؔ لے لوں

مٹی کا پتلا ہو جاؤں