موت سے وہ نہ زندگی سے ملے
Zaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)موت سے وہ نہ زندگی سے ملے
روز و شب کی جو بے خودی سے ملے
ہم نے جانا فریب کھانے پر
کیا صلے ہم کو زندگی سے ملے
بے دلی سے ملے ہمیں احباب
ہم رقیبوں سے بھی خوشی سے ملے
ان کے قدموں پہ جھک گئی دنیا
جو محبت سے عاجزی سے ملے
لاش پر آج آئے رونے کو
عمر بھر سارے بے رخی سے ملے
دل میں حسرت ہے موت کی اے ظہیرؔ
یوں تو ملنے کو ہم سبھی سے ملے