جانے والا مجھ پہ احساں کر گیا
Saba Nusratجانے والا مجھ پہ احساں کر گیا
میری آنکھوں میں سمندر بھر گیا
اس سے بچھڑے اک زمانہ ہو گیا
ایسے لگتا ہے ابھی اٹھ کر گیا
کیسے بھولوں وہ قیامت کی گھڑی
جب جدائی سے مرا دل ڈر گیا
زندگی کے سارے منظر بجھ گئے
جب مری نظروں سے وہ منظر گیا
دل کے بارے میں نہ ہم سے پوچھئے
کیا بتائیں اس میں کیا کیا مر گیا
بھول جائے دل انہیں ممکن نہیں
لذتیں جو پیار کی دے کر گیا
میں تو نصرتؔ صبر پر مجبور ہوں
وقت میرے دل پہ پتھر دھر گیا