کیوں ڈھونڈھتی رہتی ہوں اسے سارے جہاں میں

Saba Nusrat

کیوں ڈھونڈھتی رہتی ہوں اسے سارے جہاں میں

وہ شخص کہ رہتا ہے مرے دل کے مکاں میں

میں وہ نہیں کہتے ہیں جو کچھ اور کریں اور

جو کچھ ہے مرے دل میں وہی میرے بیاں میں

یارب تری رحمت جو کبھی جوش میں آئے

میں سوچ بھی پاؤں نہ کبھی وہم و گماں میں

کیا ذکر کہ اس زیست میں کچھ کھویا کہ پایا

اب کچھ بھی تو رکھا نہیں اس سود و زیاں میں

مصروف ہوں اتنی کہ توجہ نہیں دیتی

دیتا ہے صدا کوئی مجھے قریۂ جاں میں

وہ سنگ کبھی موم کی صورت بنے نصرتؔ

اب اتنا اثر لاؤں کہاں اپنی زباں میں