شاخوں پر جب پتے ہلنے لگتے ہیں
Saba Nusratشاخوں پر جب پتے ہلنے لگتے ہیں
آنسو میرے دل پہ گرنے لگتے ہیں
تجھ سے دوری اور قیامت لگتی ہے
آپس میں دو وقت جو ملنے لگتے ہیں
دن تو جیسے تیسے کٹ ہی جاتا ہے
رات کو اٹھ اٹھ تارے گننے لگتے ہیں
ایک تبسم دیکھ کے تیرے ہونٹوں پر
پھول خزاں کی رت میں کھلنے لگتے ہیں
ہوتا ہے شانوں پہ محسوس اس کا ہاتھ
موسم جب بھی رنگ بدلنے لگتے ہیں
اس کی جب ہو جائے نصرتؔ چشم کرم
چاک گریبانوں کے سلنے لگتے ہیں