سفر ہی کرنا ہے لازم تو مت تھکان گرا
Nadeem Ajmal Adeemسفر ہی کرنا ہے لازم تو مت تھکان گرا
زمیں لپیٹ مرے سر پہ آسمان گرا
مرے وجود کے دیوار و در ہلا اور پھر
مرے خیال کی حد پر کوئی چٹان گرا
میں شب گزیدہ جو کل رات گھر کو لوٹ آیا
مرا دو زانو پہ سر سر پہ سائبان گرا
میں با نصیب ہوں کتنا یہ جان لے تو بھی
کہ پہلے دھوپ تنی مجھ پہ پھر مکان گرا
میں وہ فقیر ہوں لفظوں کا جس کے ہاتھوں سے
خیال چھوٹا کہیں چاک پر گمان گرا
مری کہانی میں اے میرے کاتب تحریر
تو میرا عجز بکھیر اور اس کا مان گرا