چمکتی روشنی نے ماہتاب بند کر دیا

Nadeem Ajmal Adeem

چمکتی روشنی نے ماہتاب بند کر دیا

کسی نے چشم تر میں جیسے خواب بند کر دیا

ہماری شاخ دل سے اس کی یاد ٹوٹنے لگی

ہوائے غم نے دھوپ کا عذاب بند کر دیا

ہجوم دوستاں میں اس نے ہر کسی کی بات کی

ہمارا نام آیا تو خطاب بند کر دیا

عدیمؔ کائنات بھی عجیب درس گاہ ہے

کسی نے جی لگایا تو نصاب بند کر دیا