کھو دیا ہے ایک ایسا آدمی

Nadeem Ajmal Adeem

کھو دیا ہے ایک ایسا آدمی

سب جسے کہتے تھے اچھا آدمی

اپنے ہاتھوں سے گنوا کر دوستو

ڈھونڈنے نکلے ہیں اپنا آدمی

جھڑ گئے پتے پرندے اڑ گئے

جس شجر پر میں نے لکھا آدمی

ایک ہی فتنہ اٹھائے گا میاں

آخری کیا اور پہلا آدمی

مسکراہٹ نے تری دھوکہ دیا

اور ہمارے دل سے اترا آدمی

آ گیا ہے جو مری دہلیز پر

لگ رہا ہے دیکھا دیکھا آدمی

وہ غموں کے واسطے تریاک تھا

سب جسے کہتے تھے کڑوا آدمی

بین کرتی پھر رہی ہے زندگی

آدمی کا ہے سہارا آدمی

کیا عدیمؔ افتاد سر پر آ پڑی

گھر سے خالی ہاتھ نکلا آدمی