ہم جو کسی پہاڑ پر اپنی دعا اتارتے

Nadeem Ajmal Adeem

ہم جو کسی پہاڑ پر اپنی دعا اتارتے

کرتے کلام بعد میں پہلے خدا اتارتے

ہم کو دیا گیا ہے جو ہم پہ تری عطا ہے وہ

ہم بھی اسی لئے نہیں بار خطا اتارتے

کمرہ مہک اٹھا مرا کھلنے لگا وجود بھی

آنکھیں چمکنے لگ گئیں باب وفا اتارتے

آنا تھا آپ نے اگر کرتے ہمیں تو کچھ خبر

آپ کی رہ میں ہر طرف باد صبا اتارتے

کتنا وفا شعار تھا در سے مرے نہیں اٹھا

روتے ہوئے گزار دی رنگ حنا اتارتے

دین پہ جو نہیں تھے لوگ چاند پہ وہ چلے گئے

ہم تو رہے زمین پر فتوے سدا اتارتے

جن پہ بہت ہی ناز تھا دوست وہی چلے گئے

اس سے بڑا عدیمؔ پر بوجھ وہ کیا اتارتے