دعا کو ہاتھوں میں لے کر گھما کے چھوڑ دیا

Nadeem Ajmal Adeem

دعا کو ہاتھوں میں لے کر گھما کے چھوڑ دیا

کہ جیسے مجھ کو خدا نے بنا کے چھوڑ دیا

اکیلے رہتے ہو اچھا ہے سچ کہوں اس نے

جسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا

تمہاری یاد جہاں رقص کرنے والی تھی

یہ دل وہیں پہ بچھایا بچھا کے چھوڑ دیا

ہوا کا قرض چکانے کو گھر کے تنکوں پر

چراغ میں نے جلایا جلا کے چھوڑ دیا

ترے فقیر نے ہر راہ سے گزرتے ہوئے

زمیں سے جس کو اٹھایا اٹھا کے چھوڑ دیا

مرے نصیب پہ جب دستخط کئے غم نے

خوشی کو دل سے اڑایا اڑا کے چھوڑ دیا

جہاں رہائی کا منظر تھا اس کہانی میں

کسی نے پردہ گرایا گرا کے چھوڑ دیا

عدیمؔ کوئی بھی کاندھا نہ تھا سہارے کو

مجھے تو سب نے رلایا رلا کے چھوڑ دیا