مت مری پوشاک پر دھبہ لگا
Nadeem Ajmal Adeemمت مری پوشاک پر دھبہ لگا
رنگ بھرنا ہے تو پھر اچھا لگا
تیر لے کر بے بسی کے ہاتھ سے
گھاؤ اپنے ہاتھ سے گہرا لگا
دوستوں کو جشن کی دے کر نوید
زخم اب سیدھا نہیں ترچھا لگا
سچ نظر آ جائے تو بخیہ ادھیڑ
جھوٹ کو تشہیر کا ٹانکا لگا
آتا جاتا آدمی الجھا رہے
شہر میں تو آئنہ میلا لگا
جس کے آگے ہو زمانہ سرنگوں
اس کے پیچھے وہم کا چیتا لگا
سر کسی کا دار پر لٹکا عدیمؔ
دور سے دیکھا تو وہ جھنڈا لگا