تری چوکھٹ پہ رہنے کا جو دل ارمان چھوڑے

Nadeem Ajmal Adeem

تری چوکھٹ پہ رہنے کا جو دل ارمان چھوڑے

پرندہ پھول کے عارض پہ کیوں مسکان چھوڑے

ابھی مرنے میں دن باقی ہیں سو جی چاہتا ہے

بھلے تاوان لے لے یہ اداسی جان چھوڑے

مجھے کیا آم کے باغوں کی بابت پوچھتے ہو

مجھے مدت ہوئی ہے دوستو ملتان چھوڑے

ہمارے واسطے اتنی محبت چھوڑ جانا

پرندوں کے لیے جتنا ثمر دہقان چھوڑے

جہاں دیکھو وہیں آفت کوئی اتری ہوئی ہے

کہاں ٹھہرے کوئی جا کر کہاں سامان چھوڑے

اب اس کی یاد سینے سے لگائے پھر رہا ہوں

جسے بچپن میں ملنے کے بڑے امکان چھوڑے

جہاں کی خاک مجھ کو نام سے پہچانتی ہے

عدیمؔ اس شہر کو کیسے کوئی ویران چھوڑے