جیسا دکھتا ہوں اگر ویسا نہیں
Nadeem Ajmal Adeemجیسا دکھتا ہوں اگر ویسا نہیں
میں بھی کوئی آدمی اچھا نہیں
آگ سینے سے اٹھی تو یہ کھلا
روشنی کے تن پہ بھی کرتا نہیں
وقت کی گردن پہ پاؤں تھا مرا
آدمی سے با خدا جھگڑا نہیں
راز رکھو یار کا پانی بھرو
یہ گھڑا کچا تو ہے چکنا نہیں
جھیل میں بہنے لگی ہے چاندنی
کون کہتا ہے یہاں چشمہ نہیں
ایک حسرت سی بندھی ہے شاخ سے
لہلہاتے پھول کا جوڑا نہیں
چشم تر نے ایک دن مجھ سے کہا
آنکھ وہ کاسہ ہے جو بھرتا نہیں
ہم محبت ساتھ رکھتے ہیں عدیمؔ
اور یہی سکہ یہاں چلتا نہیں