میں ہوں

Vali Madni

میں ہوں

ویرانے میں

ایک شجر تنہا

مجھ پہ چھایا رہتا ہے ایک مہیب سناٹا

جانے کب تک

ان سناٹوں کا ساتھ رہے گا

دل میں جاگے ہے بس یہی ارماں

کاش چڑیا کوئی آئے

مجھ پہ بیٹھے پھدکے گائے

خوب چہچہائے

جوڑ کے تنکے

باہوں پر مری خوب منائے رین بسیرا

جنم دے بھولے بھالے بچوں کو

شاخوں سے پھل توڑے کھائے کھلائے بچوں کو

بیٹھے پھدکے گائے

خوب چہچہائے

کاش چڑیا کوئی آئے