دکھاتی ہے کیا رنگ کیا شان ہولی

Jafar Malihabadi (b. 1946)

دکھاتی ہے کیا رنگ کیا شان ہولی

نشاط و طرب کا ہے سامان ہولی

دکھاتی ہے کیا رنگ کیا شان ہولی

فضاؤں میں گونجے ہوئے ہیں ترانے

کوئی رنگ کھیلے کوئی گائے گانے

کہیں چہچہے ہیں کہیں قہقہے ہیں

نکالے ہر اک دل کا ارمان ہولی

دکھاتی ہے کیا رنگ کیا شان ہولی

بہاروں سے دامن سجائے ہوئے ہے

نشاں رنج و غم کا مٹائے ہوئے ہے

لٹاتی ہے گھر گھر خوشی کا خزانہ

سجاتی ہے ہر لب پہ مسکان ہولی

دکھاتی ہے کیا رنگ کیا شان ہولی

عداوت کی چنگاریوں کو بجھا کر

دلوں میں محبت کی کلیاں کھلا کر

سبق بھائی چارے کا دیتی ہے سب کو

بناتی ہے انساں کو انسان ہولی

دکھاتی ہے کیا رنگ کیا شان ہولی