تمہاری خاموش سلگتی سانسوں میں
Faisal Fehmiتمہاری خاموش سلگتی سانسوں میں
اپنے وجود کا احساس ڈھونڈھتا رہتا ہوں
میں آج کل
وہ سانسیں جن کی ہر اونچ نیچ میں
میرے نام کا آہنگ تھا
وہ سانسیں جو تمہارے بے چین دھڑکتے دل
سے مطمئن
میرے نام کا طواف کرتی تھیں
جن کی ہر اک آہٹ میں میرا نام گونجتا تھا
آج ان سانسوں میں
وہ جو میری سانسیں تھیں نہ
ان میں
مجھے اپنے وجود کا احساس نہیں مل رہا
کیا میں عدم ہو چکا ہوں
ہو چکا ہوں
اتنا بیتاب ہوں میں
اتنا بے چین ہوں میں
کی میری آنکھوں سے اشک
قطار در قطار
بہتے ہیں
اور زمین پر سے رینگتے ہوئے
تمہاری سانسوں میں
میرے وجود کے احساس
کی جستجو میں
نکل پڑتے ہیں