خامشی گر تمہیں مرغوب ہے تنہا ہی رہو

Daood Kaashmiri

خامشی گر تمہیں مرغوب ہے تنہا ہی رہو

زندگی شور سے منسوب ہے تنہا ہی رہو

ٹوٹے آئینے ہیں اور عکس بھی ہیں مسخ شدہ

یہ صداقت کسے مطلوب ہے تنہا ہی رہو

اب تو ہر سمت تماشے ہیں وما ادراک

بے اثر صحبت مجذوب ہے تنہا ہی رہو

تم جسے شافع حاجات سمجھتے ہو یہاں

وہ کسی اور کا مندوب ہے تنہا ہی رہو

ظلمت عقل ہدایت سے منور نہ ہوئی

کیسے دیکھو گے جو محجوب ہے تنہا ہی رہو