کبھی آنچ اٹھے

Badnam Nazar (1941–2023)

کبھی آنچ اٹھے

کبھی برف پگھلے

کبھی دشت میں بج اٹھے جل ترنگ

سمندر کبھی تو پکارے مجھے

فلک سے تکلم کا یہ سلسلہ ٹوٹ جائے کبھی

پہاڑی کبھی تو اتارے مجھے

ہری دوب ننگا بدن گدگدائے

جلی ریت تلووں کو چاٹے

کبھی جسم میں رات جاگے کوئی

کبھی رات میں نیند آئے مجھے

کبھی نیند میں خواب ٹوٹے کوئی

کبھی خواب کے ٹوٹنے کے قریب

مجھے ایک بے ہوش طوفاں ملے