زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

Badnam Nazar (1941–2023)

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

مانگتا تھا یہ دعا

شام و سحر بچپن میں

جانے کیا روز تھا کیا وقت تھا کیا لمحہ تھا

در تاثیر کھلا تھا

کہ خدا عرش بریں سے

چلا آیا تھا زمیں پر

نور اک چمکا کچھ ایسا کہ مرے سینے میں

آگ سی ایک لگی

اور پھر بڑھتی رہی رگ رگ میں

اور اب حال یہ ہے

جسم کا کوئی بھی انگ

آگ سے خالی نہیں

نہ کوئی پھونک نہ طوفاں

آگ پھیلی ہی چلی جاتی ہے

میں پگھلتا ہی چلا جاتا ہوں