زخم خوردہ ہنسی کی صدا

Badnam Nazar (1941–2023)

زخم خوردہ ہنسی کی صدا

آنکھوں کے روزن سے گھر میں اترتی رہی

شیشیاں رسمی جملوں کی آغوش میں کسمساتی رہیں

بے خواب بستر پہ بے رنگ سی تتلیاں

پھڑپھڑاتی رہیں

بے سانس سینہ

پھولتا اور پچکتا رہا

دوست اور رشتہ داروں کے جوتوں کے تلوے

گھستے رہے

صبح جاتی نہ تھی

شام آتی نہ تھی