میں اپنے قہقہے بکھیرتا رہا

Badnam Nazar (1941–2023)

میں اپنے قہقہے بکھیرتا رہا

مگر نہ قبر سے کوئی اٹھا

زباں کٹی رہی

نظر جھکی رہی

سماعتیں جو سو گئی تھیں سوتی ہی رہیں

کفن بندھے رہے

عذاب قبر جھیلنا گوارا تھا

کسی میں زندگی کی سمت دیکھنے کا حوصلہ نہ تھا

دبک کے اپنی اپنی قبر میں پڑا رہا ہر ایک شخص

میں اپنے قہقہے بکھیرتا رہا