میں جب ٹھرا پی کر بہکوں

Badnam Nazar (1941–2023)

میں جب ٹھرا پی کر بہکوں

اپنے آپ سے باہر نکلوں

تم جب شوہر سے اکتاؤ

اپنے آپ میں واپس جاؤ

قسمت کو کوسو بہلاؤ

ماں بننے کا ڈھونگ رچاؤ

اپنے اندر کی

بھوکی ممتا

باہر کے بچوں میں بانٹو

تکیہ بھینچے

ننگی چھت پر سو جاؤ

میں بے قابو اپنی چھت سے

تمہاری ننگی چھت پر کودوں

چاندنی چاندنی تم کو چوموں

مٹی مٹی تم کو گوندھوں

نیند بھری آنکھوں سے جاگوں

اور تمہارا شوہر نیچے کمرے میں

ادھ ننگی تصویروں سے لپٹے سسکے

رومانی اشعار لکھے کاٹے

مستقبل مٹھی میں بھینچے

ماضی کے تاریک سیہ خانوں میں گم ہو جائے

نیم جان سا بستر پر پڑ جائے

ہم مٹی کی مورت پھر کس کے خوف سے کانپیں گے

پتھر جب مٹی بن جائے