کیا یہ آفت نہیں عذاب نہیں

Jaun Elia (1931–2002)

کیا یہ آفت نہیں عذاب نہیں

دل کی حالت بہت خراب نہیں

بود پل پل کی بے حسابی ہے

کہ محاسب نہیں حساب نہیں

خوب گاؤ بجاؤ اور پیو

ان دنوں شہر میں جناب نہیں

سب بھٹکتے ہیں اپنی گلیوں میں

تا بہ خود کوئی باریاب نہیں

تو ہی میرا سوال ازل سے ہے

اور ساجن ترا جواب نہیں

حفظ ہے شمس بازغہ مجھ کو

پر میسر وہ ماہتاب نہیں

تجھ کو دل درد کا نہیں احساس

سو مری پنڈلیوں کو داب نہیں

نہیں جڑتا خیال کو بھی خیال

خواب میں بھی تو کوئی خواب نہیں

سطر مو اس کی زیر ناف کی ہائے

جس کی چاقو زنوں کو تاب نہیں

دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں

بیچ دیوار ہے اور سایۂ دیوار نہیں

شہر کی گشت میں ہیں صبح سے سارے منصور

اب تو منصور وہی ہے جو سر دار نہیں

مت سنو مجھ سے جو آزار اٹھانے ہوں گے

اب کے آزار یہ پھیلا ہے کہ آزار نہیں

سوچتا ہوں کہ بھلا عمر کا حاصل کیا تھا

عمر بھر سانس لیے اور کوئی انبار نہیں

جن دکانوں نے لگائے تھے نگہ میں بازار

ان دکانوں کا یہ رونا ہے کہ بازار نہیں

اب وہ حالت ہے کہ تھک کر میں خدا ہو جاؤں

کوئی دل دار نہیں کوئی دل آزار نہیں

مجھ سے تم کام نہ لو کام میں لاؤ مجھ کو

کوئی تو شہر میں ایسا ہے کہ بیکار نہیں

یاد آشوب کا عالم تو وہ عالم ہے کہ اب

یاد مستوں کو تری یاد بھی درکار نہیں

وقت کو سود پہ دے اور نہ رکھ کوئی حساب

اب بھلا کیسا زیاں کوئی خریدار نہیں