شوق کا بار اتار آیا ہوں
Jaun Elia (1931–2002)شوق کا بار اتار آیا ہوں
آج میں اس کو ہار آیا ہوں
اف مرا آج میکدے آنا
یوں تو میں کتنی بار آیا ہوں
دوستو دوست کو سنبھالا دو
دور سے پا فگار آیا ہوں
صف آخر سے لڑ رہا تھا میں
اور یہاں لاش وار آیا ہوں
وہی دشت عذاب مایوسی
وہیں انجام کار آیا ہوں
کوئی دم بھی میں کب اندر رہا ہوں
لیے ہیں سانس اور باہر رہا ہوں
دھوئیں میں سانس ہیں سانسوں میں پل ہیں
میں روشندان تک بس مر رہا ہوں
فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے
میں اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں
ذرا اک سانس روکا تو لگا یوں
کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں
بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا
سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں
ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھی کو
ہمیشہ میں پس لشکر رہا ہوں
لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات
میں دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں