Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. چلو چراغ بجھا کر ذرا سا دیکھیں ہمیہ کائنات کسے ڈھونڈنے نکلتی ہےUmar Farooq
  2. اب کوئے صنم چار قدم ہی کا سفر ہےکچھ اور مسافت کو ٹھہر کیوں نہیں جاتےUmar Farooq
  3. اٹھے جو تیرے در سے تو دنیا سمٹ گئیبیٹھے تھے تیرے در پہ زمانہ لیے ہوئےUmar Farooq
  4. بدن کا بوجھ اٹھانا بھی اب محال ہواجو خود سے ہار کے بیٹھے تو پھر یہ حال ہواUmar Farooq
  5. مجھے خرید رہے ہیں مرے سبھی اپنےمیں بک تو جاؤں مگر سامنے تو آئے کوئیUmar Farooq
  6. مرے مالک مجھے اس خاک سے بے گھر نہ کرنامحبت کے سفر میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں میںUmar Farooq
  7. ہمیں تو ٹوٹی ہوئی کشتیاں نہیں دکھتیںہمارے گھر سے ہی دریا دکھائی دیتا ہےUmar Farooq