Poetry
- چلو چراغ بجھا کر ذرا سا دیکھیں ہمیہ کائنات کسے ڈھونڈنے نکلتی ہےUmar Farooq
- اب کوئے صنم چار قدم ہی کا سفر ہےکچھ اور مسافت کو ٹھہر کیوں نہیں جاتےUmar Farooq
- اٹھے جو تیرے در سے تو دنیا سمٹ گئیبیٹھے تھے تیرے در پہ زمانہ لیے ہوئےUmar Farooq
- بدن کا بوجھ اٹھانا بھی اب محال ہواجو خود سے ہار کے بیٹھے تو پھر یہ حال ہواUmar Farooq
- مجھے خرید رہے ہیں مرے سبھی اپنےمیں بک تو جاؤں مگر سامنے تو آئے کوئیUmar Farooq
- مرے مالک مجھے اس خاک سے بے گھر نہ کرنامحبت کے سفر میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں میںUmar Farooq
- ہمیں تو ٹوٹی ہوئی کشتیاں نہیں دکھتیںہمارے گھر سے ہی دریا دکھائی دیتا ہےUmar Farooq