Poetry
- دل شب فرقت سکوں کی جستجو کرتا رہارات بھر دیوار و در سے گفتگو کرتا رہاNaaz Muradabadi (b. 1936)
- عقل گہوارۂ اوہام ہوئی جاتی ہےہر تمنا مری ناکام ہوئی جاتی ہےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائےجس طرف سے وہ گزر جائیں بہار آ جائےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- گزر کر آدمی راہ مصیبت سے سنورتا ہےقمر کا نور شب کی ظلمتوں میں ہی نکھرتا ہےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- مری جستجو کا حاصل مرا شوق والہانہمری آرزو کی منزل نہ چمن نہ آشیانہNaaz Muradabadi (b. 1936)
- وہ کون ہے دنیا میں جو مجبور نہیں ہےانساں کو کسی بات کا مقدور نہیں ہےNaaz Muradabadi (b. 1936)