Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. دعوۂ انسانیت مائلؔ ابھی زیبا نہیںپہلے یہ سوچو کسی کے کام آ سکتا ہوں میںMael Lakhnavi (1905–1968)
  2. سیلاب عشق غرق کن عقل و ہوش تھااک بحر تھا کہ شام و سحر گرم جوش تھاMael Lakhnavi (1905–1968)
  3. محبت اور مائلؔ جلد بازی کیا قیامت ہےسکون دل بنے گا اضطراب آہستہ آہستہMael Lakhnavi (1905–1968)
  4. میں نے دیکھے ہیں دہکتے ہوئے پھولوں کے جگردل بینا میں ہے وہ نور تمہیں کیا معلومMael Lakhnavi (1905–1968)
  5. نظر اور وسعت نظر معلوماتنی محدود کائنات نہیںMael Lakhnavi (1905–1968)
  6. نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئیمیں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئیMael Lakhnavi (1905–1968)
  7. یاد اور ان کی یاد کی اللہ رے محویتجیسے تمام عمر کی فرصت خرید لیMael Lakhnavi (1905–1968)