Poetry
- دعوۂ انسانیت مائلؔ ابھی زیبا نہیںپہلے یہ سوچو کسی کے کام آ سکتا ہوں میںMael Lakhnavi (1905–1968)
- سیلاب عشق غرق کن عقل و ہوش تھااک بحر تھا کہ شام و سحر گرم جوش تھاMael Lakhnavi (1905–1968)
- محبت اور مائلؔ جلد بازی کیا قیامت ہےسکون دل بنے گا اضطراب آہستہ آہستہMael Lakhnavi (1905–1968)
- میں نے دیکھے ہیں دہکتے ہوئے پھولوں کے جگردل بینا میں ہے وہ نور تمہیں کیا معلومMael Lakhnavi (1905–1968)
- نظر اور وسعت نظر معلوماتنی محدود کائنات نہیںMael Lakhnavi (1905–1968)
- نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئیمیں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئیMael Lakhnavi (1905–1968)
- یاد اور ان کی یاد کی اللہ رے محویتجیسے تمام عمر کی فرصت خرید لیMael Lakhnavi (1905–1968)