Poetry
- آبرو الفت میں اگر چاہئےرکھنی سدا چشم کو تر چاہئےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موجکشتی بچے کیوں کر جو رہے آٹھ پہر موجغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہےصورت غیر کہاں ہے یہ خیال اپنا ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنایہ لوگ کوئی سنتے ہیں گفتار تمناغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گایہ طفل ہے ابتر نہ رہا ہے نہ رہے گاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہواآپ ہی جب رہے نہیں نام رہا تو کیا ہواغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہےکشتہ ہوں میں جس کا سو یہ تروار وہی ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگیکافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگیغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- جو یوں آپ بیرون در جائیں گےخدا جانے کس کس کے گھر جائیں گےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- جہاں میں کہاں باہم الفت رہی ہےمگر صرف صاحب سلامت رہی ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- دل بہ از کعبہ ہے یاراں جبہ سائی چاہیےہے خدا کا گھر یہی لیکن صفائی چاہیےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایامگر اک نخل آہ اس میں نہ ہم نے کچھ اثر پایاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئیمو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئیغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- غیر آئے پیچھے پا گئے مجرے کا بار پہلےہم آہ بیٹھے رہ گئے آئے ہزار پہلےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرفپھٹ چلی چھاتی کوئی دم میں گریباں یک طرفغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- گلعذار اور بھی یوں رکھتے ہیں رنگ اور نمکپر مرے یار کے چہرے کا سا ڈھنگ اور نمکغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- مجھ سے مڑنے کی نیں کسی رو سےچشم رکھتا ہوں تیری ابرو سےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپناکرتا ہے فضل تجھ پر پروردگار اپناغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوندآہ کو کیوں نہیں ہوتا ہے اثر سے پیوندغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- یوں تو دل ہر کدام رکھتا ہےاہل دل ہونا کام رکھتا ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کادیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی