Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لواگر دیکھا نہیں جاتا تو منہ اپنا ادھر کر لوعاشق حسین بزم آفندی
  2. عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میںکیا خبر مجھ کو یہ پتھر تھے مری تقدیر میںعاشق حسین بزم آفندی
  3. کل سے دل بیمار کی حالت نہیں اچھیاللہ کرے خیر ہو صورت نہیں اچھیعاشق حسین بزم آفندی
  4. یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہرچاہوں جو نہ تجھ کو یہ ہے امکان سے باہرعاشق حسین بزم آفندی
  5. یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتاہمیں تو ہوش ہی دودو پہر نہیں آتاعاشق حسین بزم آفندی
  6. کوئی نادان نہ دانا اچھاآپ اچھے تو زمانا اچھاعاشق حسین بزم آفندی
  7. مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیاسب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیاعاشق حسین بزم آفندی