Poetry
- عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لواگر دیکھا نہیں جاتا تو منہ اپنا ادھر کر لوعاشق حسین بزم آفندی
- عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میںکیا خبر مجھ کو یہ پتھر تھے مری تقدیر میںعاشق حسین بزم آفندی
- کل سے دل بیمار کی حالت نہیں اچھیاللہ کرے خیر ہو صورت نہیں اچھیعاشق حسین بزم آفندی
- یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہرچاہوں جو نہ تجھ کو یہ ہے امکان سے باہرعاشق حسین بزم آفندی
- یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتاہمیں تو ہوش ہی دودو پہر نہیں آتاعاشق حسین بزم آفندی
- کوئی نادان نہ دانا اچھاآپ اچھے تو زمانا اچھاعاشق حسین بزم آفندی
- مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیاسب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیاعاشق حسین بزم آفندی