Poetry
- آنکھیں دکھائیں غیر کو میری خطا کے ساتھمطلب ادا وہ کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھانور دہلوی
- اشک بیتاب و نگہ بے باک و چشم تر خرابچشم بینا سے اگر دیکھو تو گھر کا گھر خرابانور دہلوی
- ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیںآگ دل میں دبائے بیٹھے ہیںانور دہلوی
- نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورتکہ پنہاں ہوں درد نہانی کی صورتانور دہلوی
- نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سےپسینہ پوچھیے اپنی جبیں سےانور دہلوی
- ہو رہا ہے ٹکڑے ٹکڑے دل میرے غم خوار کاہے مرے زخم جگر میں کاٹ تیغ یار کاانور دہلوی
- ہے بھی اور پھر نظر نہیں آتیدھیان میں وہ کمر نہیں آتیانور دہلوی
- یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہاپہلے بازار ازل مصر کا بازار رہاانور دہلوی
- اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکےخامہ سپرد کاتب تقدیر کر چکےانور دہلوی
- دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھافانی کے بدلے ملک بقا کچھ گراں نہ تھاانور دہلوی
- محبت ہو تو برق جسم و جاں ہووہ آتش کیا کہ سینے میں نہاں ہوانور دہلوی