Poetry
- کٹ گئی احتیاط عشق میں عمرہم سے اظہار مدعا نہ ہواHasrat Mohani (1875–1951)
- کہاں ہم کہاں وصل جاناں کی حسرتؔبہت ہے انہیں اک نظر دیکھ لیناHasrat Mohani (1875–1951)
- ملتے ہیں اس ادا سے کہ گویا خفا نہیںکیا آپ کی نگاہ سے ہم آشنا نہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- واقف ہیں خوب آپ کے طرز جفا سے ہماظہار التفات کی زحمت نہ کیجیےHasrat Mohani (1875–1951)
- وفا تجھ سے اے بے وفا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوںHasrat Mohani (1875–1951)
- ہم جور پرستوں پہ گماں ترک وفا کایہ وہم کہیں تم کو گنہ گار نہ کر دےHasrat Mohani (1875–1951)
- ہم کیا کریں اگر نہ تری آرزو کریںدنیا میں اور بھی کوئی تیرے سوا ہے کیاHasrat Mohani (1875–1951)