Poetry
- کوئی آیا نہ آئے گا لیکنکیا کریں گر نہ انتظار کریںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کوئی سمجھے تو ایک بات کہوںعشق توفیق ہے گناہ نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کہہ دیا تو نے جو معصوم تو ہم ہیں معصومکہہ دیا تو نے گنہ گار گنہ گار ہیں ہمFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- لائی نہ ایسوں ویسوں کو خاطر میں آج تکاونچی ہے کس قدر تری نیچی نگاہ بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- موت کا بھی علاج ہو شایدزندگی کا کوئی علاج نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- میں دیر تک تجھے خود ہی نہ روکتا لیکنتو جس ادا سے اٹھا ہے اسی کا رونا ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- میں مدتوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیراب تم بھی ساتھ چھوڑنے کو کہہ رہے ہو خیرFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- میں ہوں دل ہے تنہائی ہےتم بھی ہوتے اچھا ہوتاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ہم سے کیا ہو سکا محبت میںخیر تم نے تو بے وفائی کیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ مانا زندگی ہے چار دن کیبہت ہوتے ہیں یارو چار دن بھیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)