Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہےہزاروں دیکھنے والے تری چتون کے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  2. آج تک کوئی نہ ارمان ہمارا نکلاکیا کرے کوئی تمہارا رخ زیبا لے کرZaheer Dehlvi (1835–1911)
  3. آخر ملے ہیں ہاتھ کسی کام کے لئےپھاڑے اگر نہ جیب تو پھر کیا کرے کوئیZaheer Dehlvi (1835–1911)
  4. بجھاؤں کیا چراغ صبح گاہیمرے گھر شام ہونی ہے سحر سےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  5. چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قراردونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئیZaheer Dehlvi (1835–1911)
  6. حسن کی گرمئ بازار الٰہی توبہآگ سی آگ برستی ہے خریداروں پرZaheer Dehlvi (1835–1911)
  7. سب کچھ ملا ہمیں جو ترے نقش پا ملےہادی ملے دلیل ملے رہنما ملےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  8. سر پہ احسان رہا بے سر و سامانی کاخار صحرا سے نہ الجھا کبھی دامن اپناZaheer Dehlvi (1835–1911)
  9. شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کیتوبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کیZaheer Dehlvi (1835–1911)
  10. عشق ہے عشق تو اک روز تماشا ہوگاآپ جس منہ کو چھپاتے ہیں دکھانا ہوگاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  11. کس کا ہے جگر جس پہ یہ بیداد کرو گےلو دل تمہیں ہم دیتے ہیں کیا یاد کرو گےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  12. کوئی پوچھے تو سہی ہم سے ہماری رودادہم تو خود شوق میں افسانہ بنے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
  13. گدگدایا جو انہیں نام کسی کا لے کرمسکرانے لگے وہ منہ پہ دوپٹہ لے کرZaheer Dehlvi (1835–1911)
  14. ہے لطف تغافل میں یا جی کے جلانے میںوعدہ تو کیا ہوتا گو وہ نہ وفا ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  15. یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں اسے دیکھوں اسے دیکھوںتمہاری خود نمائی نے مجھے ڈالا ہے حیرت میںZaheer Dehlvi (1835–1911)