Poetry
- مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہےہزاروں دیکھنے والے تری چتون کے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- آج تک کوئی نہ ارمان ہمارا نکلاکیا کرے کوئی تمہارا رخ زیبا لے کرZaheer Dehlvi (1835–1911)
- آخر ملے ہیں ہاتھ کسی کام کے لئےپھاڑے اگر نہ جیب تو پھر کیا کرے کوئیZaheer Dehlvi (1835–1911)
- بجھاؤں کیا چراغ صبح گاہیمرے گھر شام ہونی ہے سحر سےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قراردونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئیZaheer Dehlvi (1835–1911)
- حسن کی گرمئ بازار الٰہی توبہآگ سی آگ برستی ہے خریداروں پرZaheer Dehlvi (1835–1911)
- سب کچھ ملا ہمیں جو ترے نقش پا ملےہادی ملے دلیل ملے رہنما ملےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- سر پہ احسان رہا بے سر و سامانی کاخار صحرا سے نہ الجھا کبھی دامن اپناZaheer Dehlvi (1835–1911)
- شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کیتوبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کیZaheer Dehlvi (1835–1911)
- عشق ہے عشق تو اک روز تماشا ہوگاآپ جس منہ کو چھپاتے ہیں دکھانا ہوگاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کس کا ہے جگر جس پہ یہ بیداد کرو گےلو دل تمہیں ہم دیتے ہیں کیا یاد کرو گےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کوئی پوچھے تو سہی ہم سے ہماری رودادہم تو خود شوق میں افسانہ بنے بیٹھے ہیںZaheer Dehlvi (1835–1911)
- گدگدایا جو انہیں نام کسی کا لے کرمسکرانے لگے وہ منہ پہ دوپٹہ لے کرZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ہے لطف تغافل میں یا جی کے جلانے میںوعدہ تو کیا ہوتا گو وہ نہ وفا ہوتاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں اسے دیکھوں اسے دیکھوںتمہاری خود نمائی نے مجھے ڈالا ہے حیرت میںZaheer Dehlvi (1835–1911)