Poetry
- کچھ تو کمی ہو روز جزا کے عذاب میںاب سے پیا کریں گے ملا کر گلاب میںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کسی کے سنگ در سے ایک مدت سر نہیں اٹھامحبت میں ادا کی ہیں نمازیں بے وضو برسوںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- کیوں اجاڑا زاہدو بتخانۂ آباد کومسجدیں کافی نہ ہوتیں کیا خدا کی یاد کوParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- گر آپ پہلے رشتۂ الفت نہ توڑتےمر مٹ کے ہم بھی خیر نبھاتے کسی طرحParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- مجھے جب مار ہی ڈالا تو اب دونوں برابر ہیںاڑاؤ خاک صرصر بن کے یا باد صبا بن کرParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- مخلوق کو تمہاری محبت میں اے بتوایمان کا خیال نہ اسلام کا لحاظParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- نکلے ہیں گھر سے دیکھنے کو لوگ ماہ عیداور دیکھتے ہیں ابروئے خم دار کی طرفParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھاکسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھاParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- وہ ہی آسان کرے گا مری دشواری کوجس نے دشوار کیا ہے مری آسانی کوParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- ہوتی نہ شریعت میں پرستش کبھی ممنوعگر پہلے بھی بت خانوں میں ہوتے صنم ایسےParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)