Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. سالک ہے گرچہ سیر مقامات دل فریبجو رک گئے یہاں وہ مقام خطر میں ہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  2. فلک پہ چاند ستارے نکلتے ہیں ہر شبستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاندPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  3. قالب کو اپنے چھوڑ کے مقلوب ہو گئےکیا اور کوئی قلب ہے اس انقلاب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  4. محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیںبیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  5. نفس مطلب ہی مرا فوت ہوا جاتا ہےجان جاناں یہ مناسب نہیں گھبرا دیناPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  6. نگہ ناز سے اس چست قبا نے دیکھاشوق بیتاب گل چاک گریباں سمجھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  7. نیرنگ عشق آج تو ہو جائے کچھ مددپر فن کو ہم کریں متحیر کسی طرحPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  8. وہ ماہ جلوہ دکھا کر ہمیں ہوا روپوشیہ آرزو ہے کہ نکلے کہیں دوبارا چاندPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  9. ہم کو بھرم نے بحر توہم بنا دیادریا سمجھ کے کود پڑے ہم سراب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
  10. یہ روپوشی نہیں ہے صورت مردم شناسی ہےہر اک نا اہل تیرا طالب دیدار بن جاتاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)