Poetry
- سالک ہے گرچہ سیر مقامات دل فریبجو رک گئے یہاں وہ مقام خطر میں ہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- فلک پہ چاند ستارے نکلتے ہیں ہر شبستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاندPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- قالب کو اپنے چھوڑ کے مقلوب ہو گئےکیا اور کوئی قلب ہے اس انقلاب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیںبیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- نفس مطلب ہی مرا فوت ہوا جاتا ہےجان جاناں یہ مناسب نہیں گھبرا دیناPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- نگہ ناز سے اس چست قبا نے دیکھاشوق بیتاب گل چاک گریباں سمجھاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- نیرنگ عشق آج تو ہو جائے کچھ مددپر فن کو ہم کریں متحیر کسی طرحPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- وہ ماہ جلوہ دکھا کر ہمیں ہوا روپوشیہ آرزو ہے کہ نکلے کہیں دوبارا چاندPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- ہم کو بھرم نے بحر توہم بنا دیادریا سمجھ کے کود پڑے ہم سراب میںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- یہ روپوشی نہیں ہے صورت مردم شناسی ہےہر اک نا اہل تیرا طالب دیدار بن جاتاPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)