Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. نگاہوں کے مناظر بے سبب دھندھلے نہیں پڑتےہماری آنکھ میں دریا کوئی ٹھہرا ہوا ہوگاNafas Ambalvi (b. 1961)
  2. ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینالگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  3. ہماری زندگی جیسے کوئی شب بھر کا جلسہ ہےسحر ہوتے ہی خوابوں کے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  4. ہمیں دنیا فقط کاغذ کا اک ٹکڑا سمجھتی ہےپتنگوں میں اگر ڈھل جائیں ہم تو آسماں چھو لیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  5. یہ عشق کے خطوط بھی کتنے عجیب ہیںآنکھیں وہ پڑھ رہی ہیں جو تحریر بھی نہیںNafas Ambalvi (b. 1961)