Poetry
- نگاہوں کے مناظر بے سبب دھندھلے نہیں پڑتےہماری آنکھ میں دریا کوئی ٹھہرا ہوا ہوگاNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینالگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہماری زندگی جیسے کوئی شب بھر کا جلسہ ہےسحر ہوتے ہی خوابوں کے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہمیں دنیا فقط کاغذ کا اک ٹکڑا سمجھتی ہےپتنگوں میں اگر ڈھل جائیں ہم تو آسماں چھو لیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- یہ عشق کے خطوط بھی کتنے عجیب ہیںآنکھیں وہ پڑھ رہی ہیں جو تحریر بھی نہیںNafas Ambalvi (b. 1961)