گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہُو

Allama Iqbal (1877–1938)

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہُو

تھرتھراتا ہے جہانِ چار سوُے و رنگ و بو

پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیر

کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغِ آرزو

وہ پُرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں

عشق سِیتا ہے اُنھیں بے سوزن و تارِ رَفو

ضربتِ پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش

حاکمیّت کا بُتِ سنگیں دل و آئینہ رُو