کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ
نوح نارویکوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ
ادھر کی ادھر آج ہوتی ہے دنیا مریض محبت بدلتا ہے کروٹ
کبھی پردہ داری کبھی خود نمائی کبھی کچھ رکاوٹ کبھی کچھ لگاوٹ
تمہاری یہ چاروں ادائیں غضب ہیں یہ چاروں کریں گی ہزاروں کو چوپٹ
قیامت نہ اٹھے کہ اٹھے جہاں میں مگر بالیقیں میں تو اٹھوں گا جھٹ پٹ
تہ قبر جس وقت مجھ کو ملے گی سر قبر کچھ ان کے قدموں کی آہٹ
کوئی کس طرح اس کو تسلیم کر لے کہ دونوں اکیلے بسر کر رہے ہیں
ترے گرد تیری اداؤں کا مجمع مری حسرتوں کا مرے پاس جمگھٹ
خدا جانے آپس میں کیا پیش آئے یہ تاخیر و تعجیل کیا رنگ لائے
ہمارا ارادہ کہ فوراً نہ دیں دل تمہاری تمنا کہ مل جائے جھٹ پٹ
کہاں لطف بزم مسرت اٹھایا کہاں دور پر کیف گزرے نظر سے
مئے ناب اوروں کے حصے میں آئی ہمارے مقدر میں تھی صرف تلچھٹ
ادھر وہ بھی سرگرم ظلم و جفا ہے ادھر ہم بھی مصروف آہ و بکا ہیں
کہیں بڑھتے بڑھتے نہ بڑھ جائے جھگڑا کہیں ہوتے ہوتے نہ ہو جائے کھٹ پٹ
یہ کیوں ہے تأمل یہ کیوں ہے توقف یہ انکار کیا ہے یہ اغماض کیا ہے
لڑاؤ بھی آنکھیں ملاؤ بھی نظریں دکھاؤ بھی مکھڑا اٹھاؤ بھی گھونگھٹ
بہت کچھ چھپایا بہت کچھ بچایا مگر پیش بندی نہ کچھ کام آئی
کئے خنجر ناز نے چار ٹکڑے بالآخر ہوا دل محبت میں چوپٹ
محبت میں یہ جھڑکیاں بھی عبث ہیں یہ ہر وقت کی دھمکیاں بھی عبث ہیں
بیان تمنا سنا اور سن کر بڑی دیر سے غور فرما رہے ہیں
ستم بھی اٹھائے ہزاروں طرح کے بلائیں بھی جھیلیں ہزاروں طرح کی
ہوا تجربہ ہم کو یہ دل لگا کر حسینوں سے دل کا لگانا ہے جھنجھٹ
شب و روز کی مختلف آفتوں نے اسے کر دیا چت اسے کر دیا پٹ
بنا غیرت آئینۂ دل ہمارا غبار آئے کیوں کر کدورت رہے کیا
محبت کے رستے میں اے شوق منزل ملے گا عجب لطف پائے طلب کو
نظر کا پلٹنا زباں کا بدلنا مقدر کی گردش زمانے کی کروٹ
یہ اے نوحؔ کس نے تمہیں رائے دی تھی کہ طوفاں اٹھاؤ زمیں دار ہو کر
اب اچھا تماشا نظر آ رہا ہے تہہ آب کھاتا سر آب کھیوٹ