پر شور الفت کی ندا ہے اب بھی
Ismail Meeruthi (1844–1917)پر شور الفت کی ندا ہے اب بھی
جو تھی وہی آن اور ادا ہے اب بھی
ہوتی نہیں سنت الٰہی تبدیل
جس شان میں ہے وہی خدا ہے اب بھی
پر شور الفت کی ندا ہے اب بھی
جو تھی وہی آن اور ادا ہے اب بھی
ہوتی نہیں سنت الٰہی تبدیل
جس شان میں ہے وہی خدا ہے اب بھی