بچوں کی باتیں

Lateef Farooqi

آئے ہیں آسمان پر بادل

چھائے ہیں آسمان پر بادل

ابر ہی ابر دیکھتے ہیں ہم

ہے برسنے کو جو ابھی چھم چھم

اور معلوم ایسا ہوتا ہے

چھپ کے خورشید جیسے سوتا ہے

گھر کے کوٹھے پہ ایک دو بچے

چارپائی پہ ہیں ڈٹے بیٹھے

بولیاں بھانت بھانت ہیں ان کی

میٹھی میٹھی ہیں بھولی بھالی سی

ایک بولا کہ جانتے ہو کیا

کیا ہے یہ آسمان پر چھایا

روئی کے گالے نام ہے ان کا

آنا اور جانا کام ہے ان کا

جب پہاڑوں سے لوگ آتے ہیں

روئی کے گالے ساتھ لاتے ہیں

کر کے اچھی طرح سے ان کو صاف

لمبے چوڑے بناتے ہیں وہ لحاف

بات سچ یہ ہے دوسرا بولا

آسمان پر لگا ہے اک خیمہ

ہے غلط یہ بھی تیسرے نے کہا

اصل میں ہے یہ دودھ کا دریا

آسماں والے اس کو پیتے ہیں

اس کو پی کر فرشتے جیتے ہیں

مل کے یوں سب نے ایسی باتیں کیں

ننھے ننھوں نے ننھی باتیں کیں

دیکھتے دیکھتے ہوا پھر کیا

موسلا دھار مینہ برسنے لگا

پیارے بچے یہ لاڈلے بچے

اپنے اپنے گھروں کو بھاگ گئے