مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا
Allama Iqbal (1877–1938)مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا
تری تقدیر کی مجھ کو خبر کیا
کلی گُل کی ہے محتاجِ کشود آج
نسیمِ صبحِ فردا پر نظر کیا!
مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا
تری تقدیر کی مجھ کو خبر کیا
کلی گُل کی ہے محتاجِ کشود آج
نسیمِ صبحِ فردا پر نظر کیا!