مجھ سے ملنے کے لیے ماہ وہ گھر سے نکلا
صغرا ہمایوں مرزامجھ سے ملنے کے لیے ماہ وہ گھر سے نکلا
کام میرا مری آہوں کے اثر سے نکلا
ہو گئیں مشکلیں آسان مری دم بھر میں
نیک اختر یہ مرا شمس و قمر سے نکلا
کیا وہ مطلب تھا فرشتے نہیں سمجھے جس کو
آسماں پر وہی مطلب تو بشر سے نکلا
میٹھی باتوں سے نکلتا ہے جو مقصد اپنا
وہ نہ دنیا میں کبھی لعل و گہر سے نکلا
بعد مدت کے وہ آیا جو تو یہ میں نے کہا
کس طرف سجدہ کروں چاند کدھر سے نکلا
آپ نے خاک جو چھانی ہے حیاؔ دنیا کی
فائدہ آپ کا کیا اتنے سفر سے نکلا