لطف تشریف جُو عشق اس کہ نے آغاز کیا
Nazeer Akbarabadi (1735–1830)لطف تشریف جُو عشق اس کہ نے آغاز کیا
ہم نے تعظیم کی اور جھپ در دِل باز کیا
دیکھ کر اس کو بتاں سحر سب اپنا بھولے
اس شہ حسن کہ عالم نے یہ اعجاز کیا
لطف سے جس کی طرف ایک نگہ کی اس نے
اس کو سو قدر و شرف سے وہیں ممتاز کیا
جس کہ ہاں پاؤں رکھا اس نے تُو کیا کیا اس کو
عالم ظاہر و باطن میں سرافراز کیا
ہم تُو کس گنتی میں ہیں حُسن نے اس کہ تُو نظیرؔ
ہیں جُو معشوق انہیں عاشق جانباز کیا