نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی

Mirza Ghalib (1797–1869)

نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی

مری محفل میں غالب گردشِ افلاک باقی ہے